登录以查看您的控制台资源

新闻通稿 SEO营销 媒体监测

联系我们

وہ کھسیانا مگر محتاط ہو گیا تھا،جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا بالکل اسی طرح جس نے لاہور کی پوسٹنگ نہیں کی افسری ہی نہیں کی

发布:5/7/2026 阅读:1

مصنف:شہزاد احمد حمید


قسط:520


”بند آنکھوں کا ایک اور خواب سچ ہو ا۔“


داتا کی نگری میں


لاہور پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا صدر مقام، باغوں کا شہر، ہندوستان کی تاریخ کا اہم پڑاؤ۔یہاں کی بطور ضلعی یا ڈویثرنل ہیڈ پو سٹنگ کسی بھی افسر کے لئے اعزاز، فخراور ذاتی پرفائل میں بڑی اہمیت رکھتی تھی اور آج بھی ایسا ہی ہے۔ وہ کہتے ہیں نا جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا بالکل اسی طرح یہ بھی سمجھا جاتا ہے جس نے لاہور کی پوسٹنگ نہیں کی اس نے افسری ہی نہیں کی۔لاہور میں میرے دو دستوں اختر نواز اور رانا نسیم پرویز نے خوب جم کر نوکری کی تھی اور ساری رجیں (شوق پورے کرنا) اتاری تھیں۔ اس وقت رانا نسیم ڈائریکٹر بلدیات لاہور تھا۔ اس سے از راہ مذاق لاہور تبادلے کی بات ہوتی تو یہ لڑنے پر اتر آ تا جیسے لاہور پر نوکری صرف اسی کا حق تھا۔ایسا ہی حال کچھ اختر نواز کا بھی رہا۔ جب میں اور قاری لالہ موسیٰ پوسٹڈتھے تو قاری نے اسے از راہ مذاق فون پر کہا؛”رانا! شہزاد لاہور ٹرانسفر کروا رہا ہے۔ تگڑی سفارش ہے کہ اس کا کزن سی ایم کا چیف سکیورٹی افسر ہے۔“ رانا کا مجھے فون آیا اور کہنے لگا؛”یار! تینوں مئیں ہی لبھا اں۔ توں کتھے ہور چلا جا۔“ میں ہنسا اور اسے کہا؛”یار! قاری نے مذاق کیا تھا۔لیکن میری خواہش ضرور ہے لاہور نوکری کی۔ دیکھو اللہ کب موقع دیتا ہے۔“وہ کھسیانا مگر محتاط ہو گیا تھا۔


میرے اللہ نے زندگی میں مجھ پر بہت سی نوازشیں اور عنایات کیں۔شکر الحمد اللہ۔ میں نے اللہ سے2پوسٹنگز کی خواہش کی تھی۔ میرے اللہ نے دونوں ہی اس وقت پوری کیں جب میں ڈائریکٹر کے عہدے پر تھا۔ پہلی لالہ موسیٰ اکیڈمی کی جہاں میں نے لوکل گورنمنٹ کے حوالے سے اکیڈمی کا نام پاکستان کے طول عرض میں پہنچا دیا تھا۔ دوسری بطور ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ لاہور اس وقت پوری ہوئی جب یہاں کام کر نا کسی چیلنج سے کم نہ تھا۔پروموشن کے ساتھ ہی جب نئی تعیناتی کے بارے قاری اور نصر راجہ سپیشل سیکرٹری بلدیات کے درمیان ڈسکشن ہوئی تو نتیجے میں مجھے میری خوابوں کی پوسٹنگ مل گئی۔ وجہ سپیشل سیکرٹری کی رانا نسیم سے کسی بات پر ناراصگی تھی۔رانا نسیم نے کئی دن تک چارج نہ چھوڑا مگر اس کا دانہ پانی اس پوسٹ سے اٹھ چکا تھا اور جب دانا پانی اٹھ جائے تو بوریا بستر بھی اٹھا نا پڑتا ہے۔اس کے باوجود وہ مجھ سے گلہ ہی کرتا رہا کہ میں نے اس جگہ ٹرانسفر کیوں کرائی؟ کوئی پوچھے بھائی کیا کسی اور کا حق نہیں تھا لاہور پوسٹنگ کا۔


میری ایک عرصہ سے عادت تھی کہ میں ہر سوموار حضرت داتا گنج بخشؒ کے مزار پر حاضری دیتا۔ داتا کی نگری میں رہنا ہو تو داتا گنج بخش ؒسے عقیدت رکھنی ہی پڑتی ہے۔


چارج سنبھالا اور جوائننگ دینے کمشنر لاہور عبداللہ سنبل کے پاس گیا۔ وہ مسکرا کے ملے، میری جوائنگ پر”سین“ لکھا اور رپورٹ آگے بھجوا دی۔ یہ ان سے میری پہلی اور آ خری ملاقات تھی کہ میری جوائننگ کے دو دن بعد ہی ان کا تبادلہ ہو گیا تھا شاید سیکرٹری خزانہ پنجاب۔ اب کمشنر لاہور کی مسند مجتبیٰ پراچہ کے نام نکلی۔ سرگودھا کی ”پراچہ فیملی“ کے چشم و چراغ، سلجھے ہوئے، دھیمے مزاج کے خوش لباس سی ایس پی افسر تھے۔ سر منڈے تھے یعنی ہیر سٹائل ”کوجک“ جیسا تھا۔ انہوں نے سروس کا بیشتر حصہ انٹرنیشل ایجنسیوں کے ساتھ ملازمت میں گزارا تھا۔ جلد ہی ان سے اچھی ورکنگ ریلیشن قائم ہو گئی جو ان کے تبادلے تک جاری رہی۔ گپ شپ بھی خوب ہوتی اور کام بھی۔ تقریباً سال بعد یہ ٹرانسفر ہو کر جنیوا پوسٹ ہوئے تھے۔ان سے دوبارہ پھر ملاقات نہیں ہوئی۔کمشنر کے پی ایس مقصود احمد بڑی محبت اور عز ت پیش آتے تھے۔ بڑے جہاندیدہ اہل کار تھا۔(جاری ہے)


نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

传播你的梦想,是我的使命

精准触达,高效发声,让每一次发布都有回响,把专业的事,交给专业的人,助你专注核心,我们搞定传播。

微信扫一扫 立即联系我们