
مصنف:مہر غلام فرید کاٹھیا
قسط:11
بختاور کو تشویش تو پہلے ہی تھی۔ مگر ڈاکٹر صاحب کی بات سن کر وہ اور بھی زیادہ تشویش میں مبتلا ہوگیا۔
”کیا وجہ ہے ڈاکٹر صاحب۔چچا جان کی طبیعت کیوں نہیں سنبھل پارہی“۔
بختاور نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا۔ مگر ڈاکٹر صاحب نے اس کے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے بختاور کو میاں اللہ دتہ کو بٹھا کر نسخہ لے جانے کو کہا۔
بختاور نے چچا کو ڈاکٹر کے کمرے سے باہر لا کر انتظار گاہ میں بٹھا دیا اور خود نسخہ لکھوانے کے لئے ڈاکٹر کے کمرے میں دوبارہ داخل ہوا۔ ڈاکٹر صاحب نے نسخہ لکھ کر بختاور کو دیتے ہوئے بتایا کہ میاں صاحب کا صحیح علاج نہیں ہورہا۔ یہ کبھی کبھار آتے ہیں اور ادویات بھی وقت پر لے کر نہیں جاتے۔
ڈاکٹر صاحب نے بختاور سے پوچھا کہ کیا آپ میاں صاحب کے عزیز ہو تو بختاور نے بتایا کہ وہ ان کے بھتیجے ہیں اور فیصل آباد کے ایک گاؤں میں رہتے ہیں۔
”لال خاں جو ان کا بیٹا ہے وہ کہاں ہے۔ میں نے مہینوں پہلے ان کو بتایا تھا۔ میاں صاحب ٹی بی کے تیسرے درجے میں ہیں۔ اور ان کو مشورہ دیا تھا کہ انہیں لاہور گلاب دیوی ہسپتال میں لے جائیں جہاں پر انہیں کم از کم9 مہینے کے لئے علاج کی ضرورت ہوگی۔ مگر وہ کبھی واپس ہی نہیں آئے اور نہ میاں صاحب کو ہسپتال لے کر گئے ہیں۔“
بہت زیادہ پریشانی کی حالت میں مبتلا ہوتے ہوئے بختاور نے ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ "ہم فوراً ہی چچا جان کو لاہور لے جائیں گے۔ آپ ہمیں کوئی چٹھی لکھ کر دے دیں تاکہ ہم مریض کو داخل کروا سکیں۔“
ڈاکٹر صاحب نے بختاور کو اپنے پیڈ پر ایک ریفرنس خط لکھ کردیا اور کہا کہ یہ خط ہسپتال کے بڑے ڈاکٹر کو دیں تو وہ مریض کو فوری طور پر ہسپتال میں داخل کر لیں گے۔
بختاور چچا جان کو لے کر جب کلینک سے نکلا تو بہت ہی پریشان تھا۔ بھائی لال پر اسے غصہ آرہا تھا۔
وہ بُڑ بُڑا تا ہوا لال کو خاموش زبان سے بُرا بھلا کہتے ہوئے میاں اللہ دتہ کو واپس گاؤں لے آیا۔
بختاور ایک دن کے لئے اور ٹھہرااور چاچے اللہ دتہ کو بتایا کہ وہ چند دنوں کے لئے واپس اپنے گاؤں جارہا ہے مگر میاں اللہ دتہ نے کچھ دن اور ٹھہرنے کا کہا۔ بختاور نے چاچے کو بتادیا۔
”چاچا ہم نے لاہور جانا ہے۔ میں تیاری کرکے جلد ہی واپس آؤنگا۔ اور آپ کو لے کر لاہور جاؤں گا۔"
”لاہور کوئی کام ہے کیا؟“
میاں اللہ دتہ نے بختاور سے دریافت کیا اور اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
”ہاں چاچا بہت ضروری کام ہے۔ آپ کو لاہور کے سب سے بڑے ڈاکٹر کو چیک کروانا ہے۔ تاکہ آپ جلد ٹھیک ہوجائیں۔“
میاں اللہ دتہ نے کھانستے ہوئے مسکرانے کی کوشش کی اور کہا۔
”میں تو ٹھیک ٹھاک ہوں۔ مجھے کیا ہوا ہے۔ تھوڑی سی کھانسی ہی تو ہے۔ ڈاکٹر نے دوائی لکھ دی ہے وہ لیتا رہوں گا۔ توٹھیک ہوجاؤنگا۔“
بختاور کو ڈاکٹر کی ہدایت نے اندر سے خوف زدہ کردیا تھا۔ بظاہر مسکراتے ہوئے اس نے کہا۔
”چاچا آپ کے ڈاکٹر صاحب نے ہی کہا ہے کہ ایک دفعہ لاہور کے بڑے ڈاکٹر سے چیک کروا لیں تاکہ ان کی کھانسی جلدی سے ٹھیک ہوجائے۔ یہاں والے ڈاکٹر کا علاج تو ہوہی رہا ہے۔“
”جیسے تمہاری خوشی بیٹا۔“
میاں اللہ دتہ نے راضی ہوتے ہوئے کہا۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
微信扫一扫 立即联系我们