
بیجنگ(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایرانی خبر رساں اداروں تسنیم اور فارس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بدھ کی صبح ایک سفارتی وفد کے ہمراہ چین کے دار الحکومت بیجنگ پہنچے، جہاں وہ اپنے چینی ہم منصب وانگ یی کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔
بی بی سی اردو کے مطابق ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور علاقائی و عالمی صورتحال میں ہونے والی پیش رفت پر بات چیت کرنا ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد ایرانی وزیر خارجہ کا یہ چین کا پہلا دورہ ہے۔
چین ایران کا سب سے نمایاں تجارتی شراکت دار اور ایرانی تیل کا بڑا خریدار ہے، اور اس نے تہران پر عائد امریکی پابندیوں کے باوجود ایرانی تیل کی خریداری جاری رکھی ہے۔
عراقچی کا یہ دورہ ایسے اہم وقت میں ہو رہا ہے جب 14 اور 15 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے لیے بیجنگ کا دورہ طے ہے۔
اسی تناظر میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ عراقچی پر دباؤ ڈالے تاکہ آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول کا خاتمہ کیا جا سکے۔
منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو میں مارکو روبیو نے کہا: ’مجھے امید ہے کہ چینی عراقچی کو وہ بات کہیں گے جو کہنا ضروری ہے، اور وہ یہ کہ آپ آبنائے (ہرمز) میں جو کچھ کر رہے ہیں وہ آپ کو بین الاقوامی طور پر تنہا کر رہا ہے۔‘
微信扫一扫 立即联系我们