
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن)امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کا جارحانہ مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور انھوں نے تہران کو مذاکرات کی میز پر لوٹنے کا مشورہ دیا۔
بی بی سی اردو کے مطابق منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں بریفنگ دیتے ہوئے روبیو کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت نے آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے جہازوں کو ’مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔‘
انھوں نے خبردار کیا کہ ایسے ممالک جو اس تنازع میں فریق نہیں وہ بھی خطرے کی زد میں ہیں۔ امریکی وزیر کے مطابق ایران کی جانب سے اس اہم آبی گزرگاہ کی ناکہ بندی کے باعث نہ صرف ان ممالک کا سامان بلکہ ان کے شہریوں کی جانیں بھی خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں پر خوراک اور پانی کی کمی سے متعلق خدشات کا حوالہ دیتے انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان حالات کے باعث ’کم از کم دس ملاح پہلے ہی ہلاک ہو چکے ہیں۔‘
روبیو نے دعویٰ کیا کہ مختلف ممالک نے امریکہ سے اپنے پرچم بردار کمرشل جہازوں کو بحفاظت وہاں سے نکالنے میں مدد کی درخواست کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی کارروائیاں مکمل طور پر ’دفاعی‘ نوعیت کی ہیں۔
انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم تب تک فائر نہیں کرتے جب تک ہم پر پہلے فائر نہ کیا جائے۔‘
مارکو روبیو نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں امریکی جہازوں پر حملہ کیا تو امریکہ جواب دینے میں نہیں ہچکچائے گا۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے اس بات کی تصدیق بھی کی کہ ’آپریشن ایپک فیوری — جو ایران کے خلاف ابتدائی امریکی۔اسرائیلی حملے کا نام تھا — مکمل ہو چکا ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ہم نے آپریشن ایپک فیوری آپریشن کے اہداف حاصل کر لیے ہیں اور کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کا جارحانہ مرحلہ ختم ہو چکا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے لیے ضروری ہے کہ وہ سمجھداری کا مظاہرہ کرے اور ایسا سفارتی راستہ اختیار کرے جو ’تعمیرِ نو، خوش حالی اور استحکام‘ کی طرف لے جاتا ہو۔
’ایران کو مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے اور شرائط قبول کرنی چاہییں۔‘
微信扫一扫 立即联系我们